Urdu

My Grandfather's Memory

By Laiba Mahmood 

 

00:00 / 02:07

I woke up and saw my mom crying;

I stood still as I watched people take my grandfather away.

Being just a 5-year-old, I didn’t know what it meant.

I had no emotions, it was just…confusing.

 

When I visited my grandparents' house and didn’t find my grandfather, just his pictures;

That day I cried and begged my mom that I want to be with my grandfather.

But she just gave me a picture of him and told me to keep it close to my heart.

That was the only picture he clicked before he passed away, though that wasn’t 

easy, I had to lay on the ground pleading for him to click a picture for me since he didn’t like his pictures to be taken. 

Being the best grandfather he was and is, he did it for me.

 

I still remember the first day I talked to my grandfather’s picture; 

because I was upset.

Hugging his picture felt like I was hugging him, I cried my heart out.

From that day I didn’t let anyone touch his picture

But one day those pictures got wet and everything faded.

 

I broke down…that picture is something I can never forget. 

As I close my eyes I still see every single detail of that picture.

His smile, his eyes that were looking at me, not on the camera.

I knew I valued the person in the picture, 

Although the picture is gone he is still in my heart and forever with me.

In my memories of him. 

میں اٹھی اور میں نے دیکھا ماما رو رہی تھی. 

میں خاموش کھڑی تھی جب میں نے دیکھا کہ لوگ میرے نانا ابو کو لے جا رہے تھے۔

صرف پنچ سالہ ہونے کی وجہ سے، میں نہیں جنتی تھی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔

میرے پاس کوئی جذبات نہیں تھے، میں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا.

جب میں اپنے نانا نانی کے گھر گیا اورمیں نے اپنے نانا ابو کو نہیں دیکھا، بس ان کی تصویریں تھیں۔  

اس دن میں نے رو رو کر اپنی ماما سے گُزارش کی کہ میں اپنے نانا ابو کے ساتھ رہنا چھاتیوں ہوں.

لیکن ماما نے مجھے صرف  نانا ابو کی ایک تصویر دی اور مجھے کہا کہ اسے اپنے دل کے قریب رکھوں۔

یہ وہ واحد تصویر تھی جو اس نے مرنے سے پہلے کینچی تھی، لکین اُنہیں منانا آسان نھیں تھا، مجھے 

زمین پر لیٹنا پڑا. اُنہیں تَصوير کھچاؤ نہ اچھا نہیں لگتا تھا. پر صرف میرے لئے آنھوں یہ کیا.

مجھے آج بھی وہ پہلا دن یاد ہے جب میں نے اپنے نانا ابو کی تصویر سے بات کی تھی کیونکہ میں پریشان 

تھی. ءنکی تصویر کو گلے لگاتے ہوئے ایسا لگا جیسے میں اُنہیں گلے لگا  رہی تھی. میں بہھہت روحی تھی. میں کسی کو بھی تَصوير کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی تھی. پر ایک دن تَصوير گِلی ہو گئی اور سب کُچھ دھل گیا.

میں ٹوٹ گئی… وہ تصویر ایسی ہے جسے میں کبھی نہیں بھول سکتی.

جب میں اپنی آنکھیں بند کرتی ہوں تو مجھے اب بھی اس تصویر کی ہر ایک تفصیل نظر آتی ہے۔

ءنکی مسکراہٹ، ءنکی آنکھیں جو کیمرے کی طرف نہیں، میری طرف دیکھ رہی تھیں۔

 میں جنتی تھی، میں تصویر میں موجود شخص کی قدر کرتی ہوں.

تصویر غائب ہونے کے باوجود وہ میرے دل میں اور ہمیشہ میرے ساتھ ہیں. 

وہ میری یادوں میں ہیں.